Surah Nahl

Surah Nahl
The 16th Surah of the Holy Qur’an which was revealed during the Meccan life of Prophet Muhammad. There are 16 bows and 128 verses.

It is derived from the phrase of verse 68, “And the revelation of Rabk al-Nahl”. Al-Nahl means honey bee. This is also just a symbol and not a topic of discussion.

The time of descenta
Several internal testimonies throw light on the time of its descent. For example, from verse 41, the phrase “Waldhin Hajru fi Allah min baad ma zalmwa” clearly shows that the Hijrat-i Abyssinia had taken place at that time.

Surah Nahl

Surah Nahl

From verse 106 “Man Kufr Billah Man Baad Imanah” it is known that at that time persecution was happening with full intensity and the question arose that if a person was forced by unbearable torture to utter the word of disbelief, then he What is the order of Verses 112 to 114 clearly indicate that the severe famine that occurred in Makkah after the Prophet’s mission had ended at the time of the revelation of this Surah.

In this Surah, verse 115 is referred to in Surah Inam verse 119, and on the other hand, verse 118 is referred to in Surah Inam verse 146. This is an argument that the revelation of these two Surahs is close. These testimonies show that the time of revelation of this surah is also the last period of Makkah and this is supported by the general style of the surah.

Topic and main subject
Abolition of polytheism, confirmation of monotheism, warning, and understanding of the bad consequences of disobeying the call of the Prophet and punishment and reprimand for opposing and resisting the truth.

The surah begins with a single warning sentence without any preamble. The infidels of Makkah used to say repeatedly that “when we have denied you and are openly opposing you, why does not the punishment of God that you threaten us with come?”

He used to repeat this on the basis of Scripture because for him it was the clearest proof that Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) was not a prophet. He said that you fools! God’s punishment is standing on your head, don’t rush to break it, but take advantage of the little time left and try to understand. After that, the speech of understanding would begin immediately.

قرآن پاک کی 16ویں سورت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں نازل ہوئی تھی۔ 16 رکوع اور 128 آیات ہیں۔

یہ آیت 68 کے فقرے سے ماخوذ ہے “اور ربک النحل کا نزول”۔ النحل کا مطلب شہد کی مکھی ہے۔ یہ بھی محض ایک علامت ہے بحث کا موضوع نہیں۔

نزول کا وقت
کئی داخلی شہادتیں اس کے نزول کے وقت پر روشنی ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر آیت نمبر 41 سے “والذین حجرو فی اللہ من بد ما ظلموا” کے جملہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہجرت حبشہ اسی وقت واقع ہو چکی تھی۔ آیت نمبر 106 “من کفر باللہ من بد ایمان” سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ ہو رہا تھا اور سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص ناقابل برداشت اذیت سے مجبور ہو کر کلمہ کفر کہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آیات 112 تا 114 واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مکہ میں جو شدید قحط اس سورہ کے

نزول کے وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس سورہ میں سورہ انعام کی آیت نمبر 119 میں آیت نمبر 115 کا حوالہ دیا گیا ہے اور دوسری طرف سورہ انعام کی آیت نمبر 146 میں آیت نمبر 118 کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں سورتوں کا نزول قریب ہے۔ ان شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے نزول کا زمانہ بھی مکہ کا آخری دور ہے اور اس کی تائید اس سورت کے عمومی انداز سے ہوتی ہے۔

موضوع اور مرکزی مضمون
شرک کا خاتمہ، توحید کی تصدیق، دعوتِ رسول کی نافرمانی کے برے نتائج کی تنبیہ اور ادراک اور حق کی مخالفت اور مزاحمت کرنے پر سزا اور ملامت۔

سورہ بغیر کسی تمہید کے ایک انتباہی جملے سے شروع ہوتی ہے۔ کفار مکہ بار بار کہتے تھے کہ جب ہم تمہیں جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو خدا کا وہ عذاب کیوں نہیں آتا جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو؟ وہ اس بات کو صحیفہ کی بنیاد پر دہراتے تھے کیونکہ اس کے لیے یہ واضح دلیل تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی نہیں تھے۔ اس نے کہا کہ احمقو! اللہ کا عذاب آپ کے سر پر کھڑا ہے، اسے توڑنے میں جلدی نہ کریں، بلکہ جو تھوڑا وقت بچا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد فوراً فہم و فراست کا سلسلہ شروع ہو جاتا


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Post