Surah Al-Isra’

Surah Al-Isra’

The 17th Surah of the Holy Quran which begins with the beginning of the 15th verse. This Surah is known by two names, one is Surah Bani Israel and the other is Surah Al-Israa.
It is derived from the phrase of verse 4, “And the judgment of the children of Israel in the book.” But the subject of discussion in this is not the Israelites, but this name is also kept as a symbol like most of the Quranic surahs. The second name i.e. Al-Israa is taken from the first verse.

The time of descent
The very first verse indicates that this Surah was revealed on the occasion of the Ascension. According to most traditions of Hadith and Seerat, the event of Ascension took place one year before the Hijra, so this surah is also one of the surahs that were revealed in the last period of the Meccan period.
At that time, 12 years had passed since Prophet Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) raised the voice of monotheism. Your opponents have done all they can to block your path. But despite all their resistance, your voice reached the corners of Arabia.

There was no Arab tribe in which two or four men were not influenced by your invitation. In Makkah itself there had formed a small group of sincere people who were ready to risk every risk for the success of this Da’wa-Haqq. A large number of the powerful tribes of Aws and Khazraj in Medina had become your supporters.

Now the time was approaching when you had the opportunity to move from Makkah to Madinah and establish a state based on the principles of Islam by encapsulating the Muslims.
Topic and subject
The warning has been given to the infidels of Makkah to learn from the fate of Bani Israel and other nations, and within the time given by God, the end of which is drawing near, take action and accept the invitation that Muhammad (peace be upon him) gave.

It is being presented through the Holy Prophet and the Qur’an, otherwise you will be erased and other people will be settled on the earth in your place. Also, the children of Israel, who were going to be addressed by the language of revelation soon after the migration, have been warned to learn from the punishments that you have received before and now the opportunity that Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) will give you.

Take advantage of what is being offered. If you miss this last chance and then repeat your old behavior, you will face a painful end.

In the first part of understanding, it has been explained in a very entertaining way that human happiness and misery and prosperity and loss actually depend on what things. Arguments have been given for Tawheed, Ma’ad, Prophethood and the validity of the Qur’an. The doubts which were raised by the infidels of Makkah about these basic facts have been dispelled and the ignorance of the disbelievers has been rebuked and interspersed with reasoning.

In the aspect of education, the major principles of morality and civilization have been described, on which the system of life was to be established in view of the Muhammadan call. It was as if the manifesto of Islam was presented to the Arabs a year before the establishment of the Islamic state. It clearly stated that this is the blueprint on which Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) wants to build the life of his country and then the entire humanity.

With all these things, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has been instructed to stand firmly on his position in this storm of difficulties and not even to think of reconciling with disbelief. Also, the Muslims, who sometimes used to get angry at the persecution of the infidels and their false arguments and their storm of lies and slander, have been advised to face the situation with full patience and calmness and preach and preach.

Control your emotions in correction work. In this regard, they have been told the prescription of prayer for self-improvement and self-purification. It is known from the traditions that this is the first time when the five-time prayer was made obligatory for the Muslims.

قرآن مجید کی 17 ویں سورت جو 15 ویں پارے کے آغاز کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت دو ناموں سے مشہور ہے ایک سورۂ بنی اسرائیل اور دوسرا سورۂ الاسراء۔
یہ آیت 4 کے فقرے سے ماخوذ ہے “اور کتاب میں بنی اسرائیل کا فیصلہ”۔ لیکن اس میں بحث کا موضوع بنی اسرائیل نہیں ہے بلکہ یہ نام بھی اکثر قرآنی سورتوں کی طرح علامت کے طور پر رکھا گیا ہے۔ دوسرا نام یعنی الاسراء پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔

نزول کا وقت
پہلی ہی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ معراج کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ احادیث و سیرت کی اکثر روایات کے مطابق معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا، اس لیے یہ سورہ بھی ان سورتوں میں سے ہے جو مکی دور کے آخری دور میں نازل ہوئیں۔
پس منظر
اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کی آواز اٹھائے 12 سال گزر چکے تھے۔ آپ کے مخالفین نے آپ کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ لیکن ان کی تمام تر مزاحمت کے باوجود آپ کی آواز عرب کے گوشے گوشے تک پہنچ گئی۔ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں تھا جس میں دو چار آدمی آپ کی دعوت سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں ہی مخلصین کا ایک چھوٹا سا گروہ بنا ہوا تھا جو اس دعوتِ حق کی کامیابی کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار تھے۔

مدینہ میں اوس اور خزرج کے طاقتور قبائل کی ایک بڑی تعداد آپ کے حامی بن چکی تھی۔ اب وہ وقت قریب آ رہا تھا جب آپ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ منتقل ہونے کا موقع ملا اور مسلمانوں کو سمیٹ کر اسلام کے اصولوں پر مبنی ریاست قائم کر لی۔
موضوع اور موضوع
کفار مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کے انجام سے سبق حاصل کریں اور خدا کے دیے ہوئے وقت کے اندر، جس کا انجام قریب آ رہا ہے، قدم اٹھائیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت کو قبول کریں۔ اس نے) دیا۔ یہ حضور اور قرآن کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے ورنہ آپ مٹ جائیں گے اور آپ کی جگہ زمین پر دوسرے لوگ آباد ہو جائیں گے۔ نیز بنی اسرائیل کو جن سے ہجرت کے فوراً بعد وحی کی زبان سے خطاب ہونے والا تھا، ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ان عذابوں سے سبق

حاصل کریں جو پہلے تمہیں مل چکی ہیں اور اب موقع ملا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) وہ) آپ کو دے گا۔ جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر آپ یہ آخری موقع گنوا دیتے ہیں اور پھر اپنے پرانے رویے کو دہراتے ہیں تو آپ کو دردناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تفہیم کے پہلے حصے میں بڑے دل چسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی خوشی و غم اور خوشحالی اور نقصان دراصل کن چیزوں پر منحصر ہے۔ توحید، معاد، رسالت اور قرآن کے صحیح ہونے کے دلائل دیے گئے ہیں۔ ان بنیادی حقائق کے بارے میں کفارِ مکہ کے شکوک و شبہات کو دور کر دیا گیا ہے اور کفار کی جہالت کی سرزنش کر دی گئی ہے اور ان کو استدلال سے منقطع کر دیا گیا ہے۔

تعلیم کے پہلو میں اخلاق اور تہذیب کے وہ بڑے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر محمدی دعوت کے پیش نظر نظام زندگی قائم ہونا تھا۔ گویا اسلام کا منشور اسلامی ریاست کے قیام سے ایک سال قبل عربوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ وہ خاکہ ہے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک اور پھر پوری انسانیت کی زندگی بنانا چاہتے ہیں۔

ان تمام باتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکلات کے اس طوفان میں اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور کفر کے ساتھ مصالحت کا خیال بھی نہ کریں۔ نیز مسلمانوں کو جو بعض اوقات کفار کے ظلم و ستم اور ان کے جھوٹے دلائل اور ان کے جھوٹ اور بہتان کے طوفان پر غصے میں آ جاتے تھے، انہیں پورے صبر اور سکون کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے اور تبلیغ و تبلیغ کی تلقین کی گئی ہے۔

اصلاحی کام میں اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ اس سلسلے میں انہیں اصلاح نفس اور تزکیہ نفس کے لیے دعا کا نسخہ بتایا گیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Post